Waseem and saima khan love story

Waseem and saima khan love story آج کا دن میری زندگی میں بہت ہی اہمیت کا حامل تھا. کیونکہ آج رات کو مجھکو اور میرے میاں عمران کو انکے باس نے اپنے بنگلے پر پارٹی میں بلایا تھا. عمران نے مجھکو خاص طور پر اس پارٹی کیلیے تیار ہونے کا کہا تھا. انھوں نے خود ہی میرے کپڑوں کی وارڈروب دیکھی. اور میرے لیے ساڑھی نکالی. جسکا بلاؤز بڑے گلے اور بناء آستینوں کا تھا. میاں کی ہدایت تھی. کہ دیکھو یہ پارٹی میرے لیے بہت اہمیت کی حامل یے. لہازا اپنا رویہ میرے باس کے ساتھ بہت اچھا اور دوستانہ رکھنا. اور میں نے انکو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا. رات کے نو بج گئے تھے. اور میں ساڑھی باندھے. مناسب میک اپ میں تیار تھی. دونوں بچوں کو انکی نانی کے ہاں روانہ کیا جاچکا تھا. میں میاں کے سامنے تیار ہوکر کھڑی ہوئ. تاکہ وہ میری تیاری دیکھکر مطمئن ہوسکیں. اور انھوں نے میری تیاری دیکھکر فورا ہی کہا...... پرفیکٹ اور میں بھی مسکرادی. اب ہم ......وسیم صاحب.....جوکہ میرے میاں کے باس تھے. انکے گھر روانہ ہورہے تھے. اور تقریبا آدھے گھنٹے میں ہی ہم انکے بنگلے پر پہنچ چکے تھے. وسیم صاحب نے ہم دونوں کا پرتپاک استقبال کیا. میں نے انکا نام تو بہت سنا تھا. لیکن دیکھا آج تھا انکو. بہت نفیس اور پرکشش شخصیت تھی انکی. پینتیس سال کی عمر تھی. لیکن وہ مجھکو پچیس سال سے زیادہ کے نہیں لگ رہے تھے. آفس کے اور بھی لوگ پارٹی میں مدعو تھے. انکی بیگمات بھی انکے ہمراہ تھیں. سر .....ان سے ملیں ...صائمہ میری بیگم...عمران نے وسیم صاحب سے میرا تعارف کروایا. اوہ.....بہت خوب....وسیم مجھے دیکھکر مسکرائے. اور اپنا ہاتھ مجھ سے ہاتھ ملانے کیلیے آگے بڑھایا. اور میں نے بھی ان سے ہاتھ ملانے میں دیر نہیں لگائ. ارے بھئ عمران....کیاں چھپاکر رکھا تھا. تمنے اتنی خوبصورت خاتون کو.......وسیم نے شوخی سے مجھکو دیکھکر کہا. سر آج لے آیا نہ....تو چھپانے والی تو بات ہی ختم پھر. عمران نے بھی فورا جواب دیا. اور ہم تینوں ہی مسکرادئیے. وسیم نے ہمارے لیے سوفٹ ڈرنک منگوایا. مجھکو بزات خود سوفٹ ڈرنک پیش کیا جو میں نے مسکراتے ہوئے شکریہ کیساتھ لے لیا. ابھی میں بیٹھی ہی تھی. کہ عمران کے آفس کولیگز عمران کے پاس آگئے. اور انکو اپنے ساتھ لیجانے پر اصرار کرنے لگے.
عمران آپ جائیں. فکر نہ کریں. صائمہ کے پاس میں ہوں نہ. انھوں نے عمران کو مطمئن کیا. ہاں ہاں....آپ جائیں.....کوئ حرج نہیں. میں وسیم صاحب کے ساتھ ہی ہوں........میں نے بھی عمران کو مطمئن کیا. اور یوں وہ اطمینان سے اپنے کولیگز کیساتھ چلیگئے. اب میں تھی. اور وسیم تھے. آج زندگی میں پہلی بار ایسا یورہا تھا. کہ میں کسی اور مرد سے اسقدر بےتکلفی سے باتیں کررہی تھی. اور مجھے ان سے اتنا فری ہوکر مسکرا مسکرا کر بات کرنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا. میں انکی شخصیت اور سراپے سے بہت متاثر ہورہی تھی. اچانک ہی وسیم اٹھ کھڑے ہوئے. انھوں نے میرا ہاتھ تھاما. اور ڈانس فلور پر لے آئے. جہاں مرد و خواتین آپس میں ڈانس کررہے تھے. ہم نسبتا ایک اندہیرے گوشے کیطرف آگئے. وسیم نے اپنا سیدھا ہاتھ میری کمر میں ڈالا. اور اپنے الٹے ہاتھ سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیلیا. اور یوں ہم دونوں موسیقی کی لئے پر ہلکے ہلکے جھومنے لگے. انکے ہاتھ بہت گرم لگ رہے تھے خاص کر انکا سیدھا ہاتھ. جو کہ میری ننگی کمر میں تھا. ایسا لگرہا تھا. کہ جیسے میری کمر کا نرم و گرم مساج ہورہا ہو......! ہم دونوں آپس میں باتیں کررہے تھے. ایکدوسرے کو جان رہے تھے. ایکدوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے. اور سب سے حیران کن بات یہ تھی میرے لیے کہ یہ سب کچھ ہی... مجھکو بلکل بھی برا نہیں لگ رہا تھا. ہم دونوں کے درمیان فاصلہ بلکل برائے نام تھا. انکے کوٹ میں سے پرفیوم کی خوشبو جوکہ موسم کی منابت سے عین مطابق تھی. مجھے بہت بھلی لگ رہی تھی. اچانک ہی اعلان کیا گیا. کہ تمام خواتین و حضرات ڈائیننگ ٹیبل پر تشریف لے آئیں. اور وسیم میرا ہاتھ تھامے ہوئے مجھے کھانے کی میز پر لے آئے..........اور ہم دونوں نے اکھٹے ہی کھانا کھایا. ڈنر کے بعد شراب سرو کرنی شروع کی گئ. صائمہ ......لیجیے نہ آپ.....انھوں نے مجھے شراب کی پیشکش کی. اوہ نو.....وسیم میں نے کبھی پی نہیں...میں دھیرے سے بولی. جیسے آپکی مرضی....لیکن پہلی بار میرے کہنے سے ڈرنک کرلیتیں تو کوئ حرج نہیں تھا. وہ دوستانہ انداز میں بولے. بات یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مجھکو نشہ چڑھ جائے. اسلیے انکار کررہی تھی....میں نے انکو اپنی بات کلییر کی. تھوڑی سی پی کر کچھ نہیں ہوگا....وہ مسکرا کر بولے. اچھا چلیں پلائیں.....میں نے بھی گرین سگنل دیدیا...! اور انھوں نے جام میرے ہاتھ میں تھمادیا. میں نے اسکو ایک نظر دیکھا. اور لبوں سے لگالیا. اور دھیرے دھیرے پینے لگی شراب بھی بہت اعلی کوالٹی کی تھی. ہر ہر گھونٹ مجھکو سرور بخشتا حلق سے نیچے اتر رہا تھا. وسیم......ایک اور پلائینگے.؟ میں نے ان سے دھیرے سے پوچھا. کیوں نہیں.....اچھی لگی آپکو...؟ وہ میری بات پر بہت خوش لگ رہے تھے. جی جناب.....بہت بہترین ہے....میں نے صاف طور پر کہا.
اور انھوں نے دوسرا گلاس میرے لبوں سے لگادیا. اور میں اسکو دھیرے دھیرے پی گئ. اور اسی دوران رات کے بارہ بج گئے. یال کی روشنیاں بلکل بند کردی گئیں. صرف چند مدھم روشنیاں ایک دو جگہ جل رہی تھیں. وسیم نے میرا ہاتھ پکڑا. اور پھر ڈانس فلور پر لے آئے. ابکی بار انھوں نے اپنی بانہوں میں لیلیا تھا. میں نے اپنے ہاتھ انکے شانوں پر رکھے ہوئے تھے. وسیم میری آنکھوں میں دیکھ رہے تھے صائمہ......آپ کتنی حسین ہیں.....وسیم کا لہجہ خوابناک تھا. اچھا.....آپ ہی بتادیں نہ.....میں اٹھلا کر اداء سے بولی. اور جواب میں وسیم نے مجھکو اپنے سینے سے لگالیا. یوں ہم دونوں کے جسم ایکساتھ پیوست ہوگئے تھے. ہم موسیقی پر جھوم رہے تھے. اچانک ہی وسیم نے میرا رخ بدلا. میری کمر انکے سینے سے لگ چکی تھی. اور اب انھوں نے اپنے ہاتھ میری چھاتیوں پر رکھ لییے تھے. انکی انگلیاں میری چھاتیوں کو دبارہی تھیں. آس پاس اندھیرا تھا. اسیلیے شائد انکو کوئ حرج محسوس نہ ہوا. وسیم........یہ کیا کررہے ہیں آپ......میں بے چین سی ہوگئ. وہی جو آپ جیسی ملکہ حسن کیساتھ کرنا چاہئیے. وہ میرے کان میں سرگوشی میں بولے. انکے ہاتھوں میں میری چھاتیاں تھیں. ایک عجیب سا سکون مل رہا تھا مجھکو . میں نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں. اور اپنا سر انکے شانے پر ٹکا دیا. اور مجھکو محسوس ہوا کہ وسیم نے اپنے ہونٹ میرے گال پر جمادیے. اور اب وہ ہولے ہولے گال کا بوسہ لے رہے تھے. اور مجھکو محسوس ہوا. کہ وسیم کو روکنے کا میرا دل بھی نہیں چاہ رہا تھا. ہم دونوں اسیطرح کافی دیر تک اندھیرے میں اسی حالت میں ایک دوسرے میں سمائے رہے. اچانک ہی لائٹس آن کردیں گئیں. اور یوں ہم دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوئے. تاہم ایک دوسرے کو دیکھکر مسکرانے کا سیشن جاری و ساری تھا. صائمہ.......وسیم نے مجھکو پکارا. جی.....میں صرف اتنا ہی کہ سکی. میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں.....وہ دل کی بات زبان پر لے آئے..... تم جو چاہو میں کرنے کیلیے تیار ہوں. کیا میرا آپکے اتنا قریب ہونا .......آپکے ساتھ ڈانس کرنا ....... کیا اور بھی کچھ ثبوت چاہیئے. آپکو میرے اقرار کا...؟ میں نے انکے کان میں رازدارانہ طور پر سوال کیا. اور میں نے دیکھا کہ وسیم میری بات پر مسکرادئیے. میرا ہاتھ ابھی تک انکے ہاتھ میں ہی تھا. اور مجھے بھی اسکا احساس نہیں ہوا کہ میں ان سے اپنا ہاتھ چھڑالوں. صائمہ ......سوئیٹ ہارٹ.....جو چاہو مانگ لو مجھ سے... وہ خوشی سے جھوم اٹھے تھے. اچھا.........کل مانگونگی......میں مسکرادی. اور اتنے میں عمران اپنے کولیگز کے ہمراہ وآپس آگئے. کیا ہوا بور تو نہیں ہوئیں صائمہ تم...انھوں نے آتے ہی پوچھا یہ سوال مت پوچھو تم.......میں نے وسیم کیطرف دیکھا. اور ہم دونوں ہی معنی خیز انداز میں مسکرا اٹھے. سر اب ہم اجازت چاہینگے....عمران نے وسیم سے کہا. جائینگی آپ کیا......وسیم نے محھ سے دریافت کیا. جی ....عمران زرا تھکے ہوئے لگ رہے ہیں...میں نے بات بنائ. اوکئے.......میں کل آپکو فون کروں تو کوئ حرج تو نہیں؟ جائیے کوئ حرج نہیں....میں نے بھی انکو کھلی چھوٹ دیدی. شکریہ .......انھوں نے اتنا کہا. اور وہ اچانک ہی وہ میرے ایکدم سے اتنے قریب آئے کہ مجھکو اندازہ ہی نہ یوسکا. صرف اتنا ہی محسوس ہوا کہ انکے لب میرے لبوں سے چھوئے. اور وہ پھرتی سے پیچھے ہوگئے. اور ہم میاں بیوی گھر وآپس آگئے...........! گھر آنکر مجھے ایکدم ہی پتہ نہیں کیا ہوا. میں آئینے کے سامنے آنکر اپنے سراپے کو بغور دیکھنے لگی. اور مجھکو اپنا آپ وآپس آنکر بہت تبدیل تبدیل نکھرا نکھرا لگ رہا تھا. میں اپنا آپ دیکھکر بے اختیار ہی مسکرا دی..............! کیا ہوا بیگم جان ......لگتا ہے کہ ہمارے باس آپسے ملکر بہت زیادہ خوش یوئے ہیں....عمران نے دل کی بات کہدی. بری بات ہے بچے نہیں بولتے بڑوں کی باتوں میں......میں نے انکے گالوں کو پیار سے چوم کر کہا. اور اسکے ساتھ ہی میں نے اپنی ساڑھی اتارنی شروع کردی. ساس اپنے کمرے میں سوچکیں تھیں. بچوں کو اپنی نانی کے ہاں سے کل شام کو ہی آنا تھا. ییئ وجہ ہے کہ میں اب صرف ایک BRA پہنے ہوئے تھی. عمران آپ بھی اسیطرح میرے پاس آجائیں. .....میں نے عمران کو کہا. اور بیڈ پر نیم دراز ہوگئ . عمران میرے پاس آگئے. اور محھکو اپنی بانہوں میں بھرلیا. کیا ہوا بہت خوش ہو بیگم تم......عمران مجھے چاٹتے ہوئے بولے. بھئ خوش تو ہونا ہی چاہیئے نہ مجھکو آپکے باس تو فدا ہی ہوگئے ہیں نہ مجھ پر.....میرے لہجے میں تکبر نمایاں تھا. ہاں محھے کوئ حیرت نہیں ہوئ. چیز ہی تم ایسی ہو...وہ مسکرا کر بولے... بہت جلد تمہاری پروموشن ہونے والی عمران......میں نے اپنے لب عمران کے لبوں کے بلکل قریب کرکے کہا. صائمہ.....تم نے .......وہ حیرت سے گڑبڑا سے گئے تھے. ہاں شراب پی ہے تمہارے باس کیساتھ میں نے....بہت مزا آیا مجھے....میرے دودھ دبائے ہیں اسنے......گال چوستا ریا ہے میرے وہ.....چلتے چلتے میرے لبوں پر بھی بوسہ لیا ہے. میں اپنی کامیاب کارکردگی انکو بتارہی تھی...........!!!!!! اچھا تو پھر کب میری پروموشن ہونے والی ہے......وہ بیقراری سے بولے. بس.....تمہارے باس کے نیچے آنے کی دیر ہے. عہدہ,,, تنخواہ سب کچھ تمہارا بڑھ جائیگا.....میں نے مسکرا کر انکو کہا. اور اتنا کہکر میرا یاتھ کمر کے پیچھے گیا. اور میں نے اپنے BRA کا ہک کھول دیا. اب میرا BRAبیڈ سے نیچے پڑا ہوا تھا. ڈارلنگ......آجکی چدائ تمہاری پروموشن کے نام.......اور اسکے ساتھ ہی میں چت ہوکر ٹانگیں کھولکر لیٹ گئ..........! دوسری صبح میں میں بیدار ہوئ. تو ظاہر ہے میری نیند پوری نہیں ہوئ تھی..... کیونکہ ایک تو پارٹی سے دیر میں وآپسی. اور پھر میاں کے ساتھ ایک بھرپور چدائ.......! یہی وجہ ہے کہ سوتے سوتے رات کے چار بج گئے تھے. اور اسی وجہ سے میاں نے مجھکو اٹھایا نہیں تھا. وہ آفس جاچکے تھے. میں باہر آئ. تو میری نظر اپنی ساس پر پڑی. وہ مجھکو دیکھکر مسکرائیں. صائمہ چلو بیٹا ناشتہ کرلو میرے ساتھ ہی...انھوں نے مجھے پیار سے پکارا. امی... آئ ایم سوری میں جاگ نہیں سکی....میں شرمندہ سی ہوکر بولی. ارے کوئ بات نہیں مجھے پتہ ہے رات کو تمکو آنے میں دیر بہت لگ گئ تھی. اور یوں ہم دونوں نے اکھٹے ہی ناشتہ کیا. گھر کے کام کاج نمٹاکر میں فارغ ہی ہوئ تھی. کہ مجھکو ایک خیال آیا....اور یی خیال آتے ہی میں اپنی ساس کے پاس آنکر بیٹھی. امی مجھکو آپسے ایک بہت ہی ضروری بات کرنی ہے... میں نے ان سے صاف بات کرنے کا سوچ لیا تھا. ہاں بولو صائمہ....کیا بات ہے...وہ میری طرف متوجہ ہوئیں. اور پھر میں نے انکو رات والی پارٹی کی تمام روداد اور عمران کے باس نے جو کچھ میرے ساتھ کیا تھا. وہ سب کچھ میں نے انکو تفصیل سے بتادیا. میری ساس نے میری تمام باتیں پوری توجہ سے سنیں. میری بات پوری ہونے پر مجھکو ایک نظر دیکھا. اور بولیں. صائمہ دیکھو.......اس دنیا میں محنت کرکے انسان صرف اپنا گزارہ چلا سکتا ہے. زندگی اس سے بہت آگے کا نام ہے. اور اسکے حصول لییے ان

Comments

Popular posts from this blog

shami and seima love

Zoia love story 2021