riaz love story
riaz love story
سر نے کہا بہن چود مجھے بھی ریا ض کہہ کر پکارو میں نے مزے سے سیکسی آواز نکال کر کہا مادر چود آج پھاڑ دے میں سر سے لے کر پاؤں تک تیری ہوں ریاض:گشتی تیرے میں بہت آگ ہے میں نے تجھے اُس دن ہی سمجھ لیا تھا تو اپنی ماں پر گئی ہے۔ ماں کا نام سن کر میں نے غصے سے سر کے ہونٹوں پر کاٹ لیا سر نے بدلے میں نیچے سے ایک زور دار جھٹکا مارا تو سر کا لنڈ میری چوت کی دیواریں چیرتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔میری منھ سے زور دار چیخ نکلی ساتھ ہی میں نے سر کا ہونٹ چھوڑ دیا۔ میں نے نیچے دیکھا تو سر کا لنڈ ابھی بھی 2 انچ باہر تھا میرے میں اور اندر لینے کی ہمت نہیں تھی،سر کا لنڈ واقعی میں گھوڑے کا تھا میں نے دل میں سوچا۔ میری ٹانگیں جواب دے رہی تھیں سر نے مجھے پکڑ کر نیچے لٹا لیا اور میرے اوپر آگئے اب سر جم کر میری چدائی کر رہے تھے سر کے زور دار جھٹکوں سے میری چوت کا کباڑہ ہو رہا تھا۔سر نے ایک زور دار جھٹکا مارامیرے منھ سے زور دار چیخ نکلی سر کا لنڈ جڑ تک میری چوت میں فٹ ہو گیا میں نے درد کے مارے اپنے ناخن ریا ض کی پیٹھ پر گھونپ دئیے۔ریاض رکے نہیں میرے منھ سے گالیاں نکل رہی تھیں سر کے ہر جھٹکے پر میں تڑپ جاتی ٹھی سرکا لنڈ میری بچہ دانی سے ٹکراتا تھا،پتہ نہی کتنی دیر تک سر میری چوت کی چدائی کرتے رہے میرے خیال میں کم از کم 20 منٹ گزر چکے تھے سر اور میں پسینے سے شرابور ہو چکے تھے حالانکہ اے سی چل رہا تھا۔میری چوت نے دوبارہ پانی چھوڑ دیا تھا پر سر تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ،میں نے ہاتھ باندھ دئیے سر کی منتیں شروع کر دیں۔سر نے مجھ پر رحم کھا کر اپنا لنڈ باہر نکال دیا میری جان میں جان آئی سر نے کہا اب اسکو منھ میں لو اور مجھے فارغ کرو میں نے سر کے لنڈ کو منھ میں لیا اور لگ پڑی چوسنے کافی دیر تک چوسنے کے بعد بھی سر فارغ ہونے کا نا م ہی نہیں لے رہےتھے۔میرا منھ تک تھک گیا تھا ۔سر نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور مٹھ مارنے لگ پڑے میں منھ کھول کر بیٹھی رہی تھوڑی دیر بعد سر کے جسم کو جھٹکے لگنا شروع ہو گئے میں سمجھ گئی سر فارغ ہونے لگے ہیں میں نے سر کے لنڈ کو جلدی سے منھ میں لے لیا سر نے ایک زور دار چنگھاڑ نکالی ۔یک دم میرے منھ میں منی کا سیلا ب آگیا میں نے جلدی سے اسکو نگلنا شروع کر دیا سر کی منی کافی گاڑھی تھی اور روکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی سر واقعی میں گھوڑا تھے چودنے میں بھی اور منی بھی گھوڑے کی طرح نکل رہی تھی۔سر کے جسم کو ابھی تک جھٹکے لگ رہے تھے کافی ساری منی میری گردن اور مموں پر بھی گر پڑی تھی۔میں نے چوس چوس کر سر کے لنڈ سے ایک ایک قطرے کو نکالا۔سر بیڈ پر گر پڑے میں بھی بے حال ہو کر بیڈ پر لیٹ گئی۔میں نے ڈوپٹے سے اپنے مموں اور منھ کو صاف کیا ۔اور سر کے بازؤں پرلیٹ گئی ریاض نے پوچھا تم نے جانا نہیں ہے میں نے بتا دیا کہ میں گھر اکیلی ہوں آج کی رات آپ کے پا س گزاروں گی۔سر نے خوش ہو کر مجھے چوم لیا اور کہا جان آج کی رات کو ہم یادگار بناتے ہیں میں کچھ کھانے کو لا تا ہوں سر نے کپڑے پہنے اور مجھے بھی کپڑے پہنائے خود باہر کھانا لانے نکل پڑے۔میں نے امی کو فون کیا تو انہوں نے بتا یا ابھی ہم راستے میں ہیں مجھ سے ماریہ کا پوچھا میں نے بتا دیا وہ کھانا بنا رہی ہے اور ہم کھانا کھا کر سو جائیں گے ۔میں نے اس لئیے سونے کا کہا ورنہ امی پریشان ہو کر مجھے با ر بار فون کر کے ڈسٹرب نہ کرتی رہیں
۔تھوڑی دیر بعد سر کھا نا لے کر آگئے ۔میں نے کہا میں کھانا لگاتی ہوں سر نے کہا کھانا تھوڑی دیر تک کھاتے ہیں ۔سر نے جیب سے شراب کی بوتل نکال لی۔میں نے کہا :یہ کیوں پی رہے ہیں آپ ،کیا میرا نشہ کافی نہیں ہے۔ سر:پاگل اس سےتمہاری جوانی کا نشہ سہہ آتشہ ہو جائے گا۔سر نے دو گلاس نکالے اور پیگ بنانے لگ پڑے میں نے کہا میں نہیں پیوں گی۔ سر نے کہا :جان ایک پیگ پی لو سیکس کا مزہ دوبالا ہو جائے گا سر کے زور لگانے پر میں نے حامی بھر لی سر نے اپنے گلاس میں پانی ڈالا اور میرے گلاس میں کولڈڈرنک ڈال دی سر:جان کولڈڈرنک سے تم کو یہ زیا دہ کڑوی نہیں لگے گی میں نے گلا س اٹھا لیا ایک گھونٹ بھرا تھوڑی کڑوی لگی پر میں پی گئی سر نے ایک ہی سانس میں پورا گلاس چڑھا لیا۔ سر نے دو پیگ پیئے میں نے ایک بڑی مشکل سے ختم کیا۔بعد میں کھانا وغیرہ کھا یا۔ میرا سر تھوڑا گھوم رہا تھا جسم ایسا لگ رہا تھا ہلکہ ہو گیا ہو میں نے سر کی طرف نشیلی آنکھوں سے دیکھا سر میرے نزدیک آگیا۔سر نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی لگا یا اور سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ایک سی ڈی نکال کر لگا دی ۔تھوڑی دیر بعد ٹی وی پر سیکسی فلم چلنا شروع ہو گئی جسکو دیکھ کر میری چوت میں دوبارہ خارش شروع ہو گئی۔سر نے مجھے چومنا شروع کر دیا میرے کپڑے اتارنے لگ پڑے کپڑے اتار کر سر نے مجھے گھوڑی بننے کا کہا میں الٹی ہو کر گھوڑی کی پوزیشن میں آگئی۔سر نے نشیلی آواز میں کہا :فوزیہ تمہاری گانڈ بہت اچھی ہے اب میں اپنا لنڈ تمہا ری گانڈ میں ڈالوں گا میں دھل گئی مجھے وہ درد یا د آگیا میں جلدی سے سیدھی ہو گئی میں نے کہا نہیں گانڈ میں بہت درد ہو تا ہے سر نے کہا مجھ پر اعتبا ر رکھو میں اتنا ہی اندر ڈالوں گا جتنا تم برداشت کر سکو گی میں سر کے زور لگانے پر مان گئی۔ سر واش روم سے تیل لےآئے اور اچھی طرح سے اپنے لنڈ پر تیل کی مالش کی تیل لگانے سے سر کا لنڈ اور کالا اوربھیانک لگنے لگ پڑا سر نے مجھے دوبارہ گھوڑی بننے کو کہا میں گھوڑی بن گئی سر نے اچھی طرح میری گانڈ پر تیل لگایا اور اپنی انلی کو تیل میں ڈبو کر میری گانڈ میں داخل کر دی میرے منھ سے سسکاری نکلی سر نے اندر انگلی سے میری گانڈ میں اچھی طرح تیل لگایا۔پھر انگلی نکال کر اپنے لنڈ کی ٹوپی کو میری چوت پر سیٹ کیا ،میں نے نیچے سے کہا بہن چود اگر جھٹکا لگایا تو کبھی نہیں تیرے پاس آؤنگی۔ سر نے کہا مجھ پراعتبار رکھومیں کوئی ایسی حرکت نہیں کروں گا جس سے تم کو تکلیف ہو۔ سر نے مجھے اپنی گانڈ کو کھولنے کا کہا میں نے پیچھے ہاتھ کر کے اپنی گانڈ کے سوراخ کو کھولا سر نے میری گلابی گانڈ پر اپنا کالا لنڈ فٹ کیا اور زور لگا کر اپنی ٹوپی اندر ڈال دی گھپ کی آواز سے ٹوپی اندر گئی مجھے درد ہونا شروع ہو گئی میں نے درد سے کراہنا شروع کر دیا۔اسکے بعد سر نے آہستہ آہستہ زور لگا کر لنڈ کو اند گھسانا شروع کر دیا 2 یا 3 انچ اندر جانے کے بعد میری ہمت جواب دے گئی۔میں نے کہا بس اتنا بہت ہے سر :مادرچود آدھا تو اندر لے میں:گشتی کے بچے اپنی ماں کو بول وہ لے اسکو اندر گھوڑے جیسا لنڈ ہے تیرا سر نے اب لنڈ کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا تکلیف کے مارے میری آنکھوں سے آنسو جا رہے تھے۔میں نے درد کی شدت سے تکیے کو کاٹنا شروع کر دیا تھا۔اور دل میں سوچنا شروع کر دیا تھا کہ میں نے کہیں سر کے گھر آکر غلطی تو نہیں کر لی۔ سر :تیری گانڈ بہت ٹائیٹ ہے مجھے لگ رہا ہے جیسے میرے لنڈ کی کھال اتر رہی ہو۔ میں :بہن چود جلدی فارغ ہو مجھے گانڈ میں تکلیف ہو رہی ہے۔ 10 منٹ کے بعد سر نے میری گانڈ میں ہی اپنی منی نکال دی میں نے سکھ کا سانس لیا ۔سر لیٹ گیا۔مجھے اب گانڈ میں درد ہو رہی تھی، اس پوری رات میں نے کوئی 4 با ر سیکس کیا۔تھک ہار کر ہم لیٹ گئے صبح کے 4 بج چکے تھے جب ہم سوئے تھے صبح 7 بجے الارم پر میری آنکھ کھلی میں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور چھت سے ہوتی ہوئی اپنے گھر آگئی اور اپنا یونیفارم پہنا اور چائے پی کر گھر سے نکل پڑی، ایک رات کی نیند پوری نہیں ہوئ اور دوسرا شائید شراب کے نشے کی وجہ سے سر پھٹا جا رہا تھا۔جیسے تیسے کر کے پیپر کیا ،چھٹی کے ٹائم ماریہ کو میں نے ساتھ لیا اور ہم لان میں جا کر بیٹھ گئے ،ماریہ نے میری آنکھیں دیکھیں تو پوچھا خیر ہے کیا ساری رات پڑھتی رہی ہو آنکھیں لال ہو رہی ہیں۔ میں نے کہا اسکو چھوڑو تم سے ایک کام ہے۔ ماریہ:حکم کرو جان حاضر ہے۔ میں :جان نہیں چاہیے بس امی اگر کبھی پوچھیں تم سے تو تم بتا دینا کل رات تم ہمارے گھر تھی۔ ماریہ:تو یہ آنکھوں کی خماری پڑھنے سے نہیں رات بھر جاگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔کون تھا وہ خوش نصیب؟ میں نے اسکو سب بتا دیا مجھے پتا تھا وہ آسانی سے پیچھا چھوڑنے والی نہیں ہے۔ واہ تم نے مجھے کہا لنڈ کا بندوبست کرو اور خود ہی بندوبست کر لیا۔ میں:یار بس اسکا لنڈ ایسا تھا مجھ سے کنٹرول نہیں ہوا ماریہ نے کرید کرید کر سر کے لنڈ کے سائز کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔میں نے کہا :بہن چود کا لنڈ سمجھو گھوڑے جتنا ہے ماریہ نے موبائل نکالا اور اس میں سے کچھ کالے حبشیوں کی تصاویر نکالیں اور دکھا دکھا کر پوچھنے لگ پڑی کس سے ملتا جلتا ہے اس کا لنڈ میں نے ایک تصویر پر ہاتھ رکھ کر کہا تقریبا اس کے سائز کا ہوگا۔ ماریہ نے تصویر کو دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا یار تو خوش نصیب ہے۔مجھے تو آج تک جتنے لنڈ ملے 6 انچ تک کے ہی تھے۔ میں نے کہا چلو گھر چلیں میں نے آرام کرنا ہے ہم دونوں اپنے اپنے گھر آ گئیں۔میں آ کر سو گئی 5 بجے فون کی گھنٹی سے آنکھ کھلی میں نے بڑی مشکل سے آنکھ کھولی تو امی کا فون تھا۔امی نے بتایا ارشد کی امی کو فالج بھی ہو گیا ہے کافی حالت خراب ہے ۔تم مجھے ماریہ کی امی کا نمبر دو میں ان کو بولتی ہوں ایک اور دن اُ ن کی بیٹی ہمارے گھر رک جائے میں نے گھبرا کر کہا امی ان کو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ رک جائے گی۔ امی نے مطمعین ہو کر فون بند کر دیا۔میں نے ماریہ کا نمبر ملایا اور اسکو کہا تم آج کی رات میرے گھر آجاؤ۔ ماریہ :میری امی سے بات کر لو میں انکو فون دیتی ہوں میں نے ماریہ کی امی سے اجازت لے لی اور تھوڑی دیر بعد اسکا بھائی اسکو میرے گھر چھوڑ گیا ۔وہ گھر سے بریانی بنوا کر لائی تھی میں نے بھی رات کا کھانا کھایا تھا۔پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے ہم دونوں نے مل کر بریا نی کھائی ۔ وہ بہت خوش لگ رہی تھی۔مجھے اسکی خوشی کا اندازہ تھا۔ میں نہا دھو کرتیار ہو نے لگ پڑی اور ہم دونوں شام کا انتظار کرنے لگے۔جیسے ہی رات کی تاریکی بڑھی میں نے ماریہ کو ساتھ لیا اور ہم دونوں سر کی چھت سے ہوتے ہوئے سر کے گھر میں داخل ہو گئے ماریہ کو میں نے کہا تم میرا یہاں انتظار کرو میں سر سے با ت کر کے آتی ہوں۔ میں سر کے گھر داخل ہوئی تو سر کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے تھے سر مجھے دیکھ کر چونک گئے تم ہمیشہ سر پرائیز دیتی ہو
۔ میں:ابھی اور بھی سر پرائیز باقی ہے سر :میں کچھ سمجھا نہیں میں :بتاؤں گی صبر سے کام لیں۔ سر :تمہارے گھر والے نہیں آئے کیا اب تک میں:نہیں ابھی تک نہیں آئے۔ میں نے آگے بڑھ کر سر کے کپڑے اتارنا شروع کر دئے سر کو ننگا کر کے میں نے سر کو کس کرنا شروع کر دیا۔تھوڑی دیر بعد میں نے سر کو کہا آپ لیٹ جاؤ میں ایک منٹ میں آتی ہوں سر بیڈ پر لیٹ گئے میں کمرے سے باہر آگئی اور ماریہ باہر میرا انتظار کر رہی تھی میں ماریہ کو لے کر کمرے میں داخل ہوئی ۔سر میرے ساتھ ماریہ کو دیکھ کر بری طرح چونک گئے۔ سر :یہ کون ہے اور اسکو ساتھ کیوں لائی ہو میں:یہ میری دوست ہے ماریہ میرے ساتھ اسکول میں پڑھتی ہے سر:اسکو یہاں کیوں لائی ہو۔ میں:اسکے جسم میں بھی آگ لگی ہوئی ہے اسکو بجھانے کے لیئے آپ کی ضرورت ہے۔ ماریہ نے اپنی نگاہیں بھوکی بلی کی طرح سر کے لنڈ پر ٹکا ئی ہوئی تھی۔میں نے ماریہ کا ہاتھ پکڑا اور اسکو لے جا کر سر کے پا س بیڈ پر بٹھا دیا ماریہ تھوڑی جھجھک رہی تھی۔اسکو بیڈ پر بٹھا کر میں واپس جانے کے لئیے مڑی تو سر نے پوچھا تم کہا چل دی میں:آپ ماریہ کی آگ بجھائیں میں دوسرے کمرے میں انتظار کرتی ہوں۔ سر:میری ایک شرط ہے اگر منظور ہے میں:بتائیں کیا شرط ہے؟ سر نے سائیڈ ٹیبل سے ایک گولی نکالی اور پا نی کے ساتھ کھا لی اور کہنے لگے سر :تم دونوں پہلے میرے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کرو میں تم کو بیٹھ کر دیکھوں گا میں :نہیں سر مجھے شرم آئے گی۔ سر :بہن چود مجھ سے سیکس کرتے ہوئے شرم نہیں آئے گی۔چلو شروع ہو جاؤ مجھے بھی سیکس کے لیئے تیار ہونے میں آدھا گھنٹہ لگے گا اس گولی کا اثر شروع ہو جب تک۔ میں: یہ کس چیز کی گولی ہے؟ سر: تم دو گرم جوانیوں کی آگ بجھا نے کے لئیے یہ گولی لازمی تھی اس سے میں جم کر تم دونوں کی چدائی کروں گا لنڈ جلدی فا رغ بھی نہیں ہوگا میں نے دل میں سوچا سر کی ٹائیمنگ ویسے ہی کمال کی تھی اب گول



Comments
Post a Comment